http://facebook.com/AllamaKhizarHayat

Wednesday, 3 July 2013

دورِ جاہلیت کا "موت کا معنی" کون کرتا ہے ؟

اوکاڑوی صاحب کہتے ہیں کہ موت کا معنی "روح کا جسم سے نکل جانا" یہ دورِ جاہیلت کا معنی ہے ۔
اب ذرا دیکھنا یہ کہ یہ معنٰی کون کون سے اکابرین کر رہے ہیں :


۱۔مات یموت موتا، حل بہ الموت وفارقت الروح جسدہ
جسد عنصری سے روح کے جدا ھونے کا نام موت ھے۔

۲۔ای الموت فعبارۃ عن زوال القوۃ الحیوۃ الحیوانیۃ و ابنۃ الروح عن الجسد(مفردات امام راغب رحمۃ اللہ علیہ ص ۴۷۷،494)
موت قوت حیات کے زائل ھو جانے  اور روح کے بدن سے جدا ھو جانے کا نام ھے۔

۳۔ والموت ضدالحیاۃ (تفسیر قرطبی سورۃ البقرہ آیت ۱۹)
موت حیات کی ضد(یعنی مخالف) ھے

۴۔الموت زوال الحیوٰۃ (ھدایہ عربی ص ۲۴ ج ۱ کتاب الطھارت)
موت حیات کے زائل (یعنی ختم) ھو جانے کا نام ھے۔

اور اھل سنت والجماعت کا اتفاق ھے کہ آدمی کی روح جب تک جسم میں رھتی ھے آدمی زندہ رھتا ھے۔اور جب وہ نکل جاتی ھے تو موت آجاتی ھے۔ (عقائد الاسلام ص ۲۷۱ ج۲)

5- امام رازی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا:

"پس ہم کہتے ہیں موت کا وقت وہ ہوتا ہے کہ بدن سے ظاہری و باطنی تعلق روح کا منقطع ہو جاتا ہے اور یہی موت ہے" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( تفسیر کبیر ۔سورۃ زمر)

6- علامہ عینی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا:

"والموت قطع تعلقہ بالبدن ظاھراً و باطناً" ۔۔۔۔ " روح کے جسم سے مکمل جدا ہونے کو موت کہتے ہیں۔کہ ظاہر بدن سے تعلق رہے نہ باطن سے"

عینی شرح بخاری جلد 5 صفحہ 88

7-علامہ بیضاوی رحمہ اللہ علیہ :

قولہ :اللہ یتوفی الانفس حین موتھا: ای یقبضھا عن الابدان باءن یقطع تعلقھا عنھا واتصا فھا فیھا ظاھراوباطناوذلک ھوالموت۔

"روح کو بدن سے نکال لینا، بایں طورپر کہ بدن سے روح کا تعلق اور اتصاف ظاھری اور باطنی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ اور یہی موت ہے"

(تفسیر بیضاوی سورۃ زمر آیت نمبر 42)

8- امام نیشاپوری رحمہ اللہ علیہ : "بدن سے جسم کا تعلق کلی طور پہ ختم ہو جائے اسے موت کہتے ہیں "
تفسیر نیشاپوری صفحہ 24
ان عبارات سے موت و حیات کا معنٰی و مفھوم  روز روشن کی طرح واضع ھو گیا ھے۔

9- قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ علیہ : "موت کے وقت کھینچ لیا جاتا ہے روح کو بدن سے اس وقت ختم ہو جاتا ہے تعلق روح اور بدن کا ۔"

10-امام الہند شاہ ولی اللہ محدث رحمہ اللہ علیہ: یہ بات ثابت ہو چکی ہے ہمارے نزدیک صحیح مشاہدے سے بے شک موت کے وقت جسم میں استعدادِ روح نہیں رہتی وہ اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

11- علامہ عبدالحقانی رحمہ اللہ علیہ : اِنَّکَ مَیِّتٌ – یہ موتِ عرفی ہے جو عام موت ہوتی ہے ۔یعنی روح کی جسم سے مفارقت۔
اور جب روح کا  تعلق بدن سے منقطع ہو جاتا ہے ظاہر و باطن سے اور سارے اجزائے بدن سے اسے موت کہتے ہیں۔روح اور جسم کا تعلق منقطع کلی ہو جاتاہے۔

تفسیرِ حقانی صفحہ 148
عقائد اسلام جلد 2 صفحہ271



No comments:

Post a Comment