http://facebook.com/AllamaKhizarHayat

Thursday, 27 March 2014

ذریتِ اوکاڑوی کے چند سوالات کا منہ توڑ جواب (حصہ اول)۔



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

1) ap es zameen waly qabar ko qabar manty ho k nhe ? Yes or no


2) kia jism e misale jo k moshk o anbar ka hy onka zikar quran aur hadees mai hy ?
Koe aik hawala.

3) koe aik ayat ya hadees jis mai ho k anbia jism e misale mai zinda hy

4) koe aik ayat ya hadees jis mai ho k anbia apni qabro mai morda hy nauzobillah.

5) zameeni qabar mai jasad e onsari k azad ao lazat k qail ho ya nhe )

6) jin ayat se ap hayat fil qabar ka enkar krty ho aur kehty ho k en ayat mai 2 maot aur 2 hayat ka zikar hy aur agar qabar ke hayat ko man lia jay to ye en ayat k mokhalipat ho jaege.
To sawal ye hy k agar hayat fil qabar se en ayat ke mukhalipat lazim ati hy to jo hayat ap mamati manty ho kbhi barzakh ka name ly kar kbhi jisme misale ka to kia os hayat se en ayat ke mokhalipat aur enkar lazim nhe ati ?

baqi sawalat apky har post par mojud hy.

سوال نمبر  1 کا جواب :

"1) ap es zameen waly qabar ko qabar manty ho k nhe ? Yes or no۔

جی ہاں دل و جاں سے مانتے ہیں۔اور اسی طرح مانتے ہیں جیسے اکابرینِ دیوبند نے مانا ہے  جنہوں نے قبر کے دو معنیٰ کیے 

ہیں ۔ 1- مقر المتیت ( یہ زمین والی قبر) ، 2- مقر الحئی ( عالمِ برزخ) ۔ ثبوت ملاحظہ ہوں


http://hayatomamaat.blogspot.com/2013/10/blog-post_24.html

سوال نمبر 2 کا جواب :

2) kia jism e misale jo k moshk o anbar ka hy onka zikar quran aur hadees mai hy ?

Koe aik hawala
.

ہم نے یہ قطعاً دعوہ نہیں کیا کہ ہم جسدِ مثالی کا ثبوت قرآن و سنت سے پیش کریں گے۔ جسدِ مثالی کی تحقیق علمائے اسلام 


کی تحقیق ہے اور جمہور علمائے اسلام اس جسدِ مثالی کے قائل ہیں ۔ ثبوت ملاحظہ کریں

http://hayatomamaat.blogspot.com/2013/10/blog-post_8104.html


علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں امام الانبیاء نے ارشاد فرمایا :مثل لی الانبیاء علیھم السلام فضیلت بھم: یعنی انبیاء 


علیہھم السلام کو مثالی جسموں میں حاضر کیا گیا اور انہیں نماز پڑھائی۔

تفسیر بیضاوی جلد 1 صفحہ 473

انبیاء اکرام کی روحیں اپنے جسموں سے نکل کر ان ھی کے مماثل مشک وکافور کی طرح معطر مثالی جسموں میں داخل ھو جا

تی ھیں اور جنت میںکھاتی پیتی ھیں اور لذت اندوز ھوتی ھیں۔

روح المعانی جلد 1 صفحہ 162

سوال نمبر 3 کا جواب :
3) koe aik ayat ya hadees jis mai ho k anbia jism e misale mai zinda hy

گزشتہ سوال میں عرض کر چکا ہوں کہ ہمارا یہ قطعاً دعوہ نہیں ہے کہ ہم جسدِ مثالی کا ثبوت قرآن و سنت سے پیش کرتے 

ہیں بلکہ یہ کہتے ہیں جمہور علمائے اسلام اس جسدِ مثالی کے قائل ہیں بشمول مولانا سرفراز صفدر صاحب ۔۔ تو جو دعوہ ہے 

ہمارا اسی مطابقت سے ہم علمائے اسلام کا عقیہد پیش کریں گے خصوصاً مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ علیہ جنہوں نے 

بہت جامع انداز میں یہ مسئلہ سمجھایا ہے اور اس کا حوالہ اصل کتاب سے لگا چکا ہوں ۔۔

سوال نمبر 4  کا جواب :

4) koe aik ayat ya hadees jis mai ho k anbia apni qabro mai morda hy nauzobillah.

جی ابھی پیش کر دیتے لیکن ساتھ میں ہمارا بھی مطالبہ یہی ہے کہ کوئی ایک صریح نصِ قطعی جس میں ہو کہ انبیاء کی ارواح 

موت کے بعد اسی جسدِ عنصری میں اس طرح لوٹ آتی ہیں کہ حیاتِ کاملہ ، ادرک فہم و شعور حاصل ہو جاتا ہے ۔۔


1- سورہ مریم آیت 33 ، یہی آیت حضرت یحیٰی علیہ السلام کے لیئے بھی ہے  تو دو آیات یہ ہو گئیں ۔۔ اسکی تفسیر میں 


تفسیر قرطبی ملاحظہ کریں 

http://hayatomamaat.blogspot.com/2013/07/33.html

2- تفسیر مدراک میں سورۃ زمر آیت 30 کے تحت 


http://hayatomamaat.blogspot.com/2013/07/30.html

3- انکے گھر کی دلیل ۔۔ مولانا سرفراز صاحب صفدر 


http://hayatomamaat.blogspot.com/2013/11/blog-post_2953.html

4- مولانا صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں 


یہ لو ۔۔ http://hayatomamaat.blogspot.com/2013/11/blog-post.html

اب ا حدیثِ مبارکہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ عَنْ أَبِي الْحَسْنَائِ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِکَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ
عثمان بن ابی شیبہ، شریک، ابی حسنا، حکم، حضرت حنش سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی کو دو دنبوں کی قربانی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ (یعنی ایک کی بجائے دو جانوروں کی قربانی کیوں؟) انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ (میں آپ کی وفات کے بعد) آپ کی طرف سے بھی قربانی کروں۔ پس یہ ایک قربانی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کر رہا ہوں۔

سنن ابو داؤد : کتاب : قربانی کا بیان، باب: میت کی طرف سے قربانی کرنا

وَعَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَیْتُ عَلِیًا یُضَحِّیَ بِکَبْشَیْنِ فَقُلْتُ لَہ، مَا ھٰذَا فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْ صَانِی اَنْ اُضَحِّیَ عَنْہُ فَاَنَا اَضَحِّیَ عَنْہُ۔ (رواہ ابوداؤد ، الترمذی نحوہ)

اور حضرت خش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دو دنبے قربانی کرتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ کیا؟ یعنی جب ایک دنبہ کی قربانی کافی ہے تو دو دنبوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں ؟ ) انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت فرمائی تھی کہ (ان کے وصال کے بعد ) میں ان کی طرف سے قربانی کروں لہٰذا میں ان کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔" (ابوداؤد، جامع ترمذی )

مشکوٰۃ شریف : کتاب: قربانی کی بیان ، باب: میت کی طرف سے قربانی کرنا

ان  دونوں احادیث مبارکہ سے بھی روزِ روش کی طرح ثابت ہو گیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے  کہ اب نبی کریم ﷺ میت ہیں اور میت کی طرف سے قربانی کی اجازت ہے اور محدثین نے یہ احادیث  :میت کی طرف سے قربانی " کے باب میں لکھی ہیں ۔۔

سوال نمبر 5 کا جواب :
5) zameeni qabar mai jasad e onsari k azad ao lazat k qail ho ya nhe )

ہم صرف برزخی ادراک کے قائل ہیں جو کہ نہ دنیا والا اور نہ دنیا کی حیات کی طرح ہے اور یہ موت کے منافی نہیں ، اور ہمارا یہی عقیدہ ہے جو عقائدِ اسلام میں بیان ہوا۔۔

http://hayatomamaat.blogspot.com/2013/10/blog-post_3604.html

کبھی مرنے کے بعد جسم پر عذاب و ثواب کے آثار نمایاں ھوجاتے ہیں بندوں کی نصیحت،عبرت اور رغبت کے لیئے۔

عقائد اسلام صفحہ ۱۷۱ (مولانا حقانیؒ والی "عقائد اسلام)


سوال نمبر 6 کا جواب:
6) jin ayat se ap hayat fil qabar ka enkar krty ho aur kehty ho k en ayat mai 2 maot aur 2 hayat ka zikar hy aur agar qabar ke hayat ko man lia jay to ye en ayat k mokhalipat ho jaege.
To sawal ye hy k agar hayat fil qabar se en ayat ke mukhalipat lazim ati hy to jo hayat ap mamati manty ho kbhi barzakh ka name ly kar kbhi jisme misale ka to kia os hayat se en ayat ke mokhalipat aur enkar lazim nhe ati ?


یہ جو ہم دو حیات اور دو اموات کی بات کرتے ہیں وہ اسِ جسدِ خاکی کے ساتھ منسلک ہیں اور وہ حیاتیں یہ دنیوی حیاتیں ہیں اور اموات وہ حالتیں ، پہلی جب روح جسم میں موجود نہیں تھی ، اور دوسری جب موت کے وقت روح جسم سے نکال لی گئی ۔۔۔  ایک حیات جب اس دنیا میں آئے اور دوسی حیات بروزِ قیامت نفخہِ ثانیہ میں ملے گی
(۝۽وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ  Ċ۝ ۔۔۔۶اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی
)


یہ جو برزخی حیات ہے اور اس حیات کے قطعاً منافی نہیں ہے ۔۔ کیوں کے اس حیات میں دنیا کی حیات کے لوازمات ، دنیوی حیات و ادراک ، شعور و فہم نہیں پایا جاتا ۔۔ تو جو قرآن میں دو حیات اموات کی بات ہوئی ہے وہ جسدِ عنصری اور اس روح کے متعلق ہیں ۔۔

مثلاً :

سورۃ بقرہ آیت نمبر 28:

كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ   ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ   28؀
تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ پھر تمہیں مار ڈالے گا پھر زندہ کرے گا (١) پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

بھلاکیونکر ناسپاسی کرتےہوالله کےساتھ حالانکہ تھے تم محض بےجان سوتم کو جاندارکیا پھرتم کوموت دیں گےپھرزندہ کرینگے (یعنی قیامت کے دن) پھر ان ہی کےپاس لے جائے جاؤ گے ۔ (ترجمہ بیان القرآن)

یعنی اجسام بےجان کہ حس و حرکت کچھ نہ تھی۔ اول عناصر تھے اس کے بعد والدین کی غذا بنے، پھر نطفہ، پھر خون بستہ پھر گوشت۔یعنی حالات سابقہ کے بعد نفخ روح کیا گیا جس سے رحم مادر اور اس کے بعد دنیا میں زندہ رہے۔یعنی جب دنیا میں وقت مرنے کا آئے گا۔یعنی قیامت کو زندہ کئے جاؤ گے حساب لینے کے واسطے۔یعنی قبروں سے نکل کر اللہ  تعالیٰ کے روبرو حساب و کتاب کے واسطے کھڑے کئے جاؤ گے۔

تفسیرِ عثمانی

بھلا کیوں کر ناشکری کرتے ہو اللہ کے ساتھ (کہ اس کے احسانات کو بھلا دیتے ہو اور غیروں کا کلمہ پڑہتے ہو) حالانکہ ( اس پر دلائل واضحہ قائم ہیں کہ صرف ایک اللہ ہی مستحق عبادت ہے مثلا یہ کہ ) تھے تم بے جان (یعنی نطفہ میں جان پڑنے سے پہلے)سو تم کو جاندار کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے(یعنی قیامت کے دن) پھر انہی کے پاس لے جائے جاؤگے (یعنی میدان قیامت میں حساب کتاب کے لئے حاضر کئے جاؤگے)۔

تفسیرِ معارف القرآن

ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ  ۔۔ اور  پھر وہ تمہیں موت دے گا جب تمھاری زندگی کی مدت ختم ہو جائے گی  (۔۔۔)  ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ   پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ تمہیں زندہ کرے گا ، مگر قبر میں انسان زندہ نہیں ہوتا ، کیونکہ زندگی اجزاء عشرہ کی ترکیب سے عبارت ہے اور یہ چیز قبور میں نہیں ہوتی۔

تفسیرِ مظہری جلد 1 صفحہ 107

امام ابنِ جریر نے  حضرت عبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ اور کئی دوسرے صحابہ سے روایت  کیا ہے کہ تم کچھ بھی نہ تھے ، اس نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ تمہیں مارے گا اور پھر تمہیں قیامت کے دن زندہ کرے گا ۔
امام ابنِ جریر ، ابن المنذر ، اور ابنِ ابی حاتم نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ کہ اسکا مطلب ہے کہ تم اپنے آباء کی صلیبوں میں میں تھے اور کچھ بھی نہ تھے ، اس نے تمہیں پیدا کیا ، پھر حق کی موت مارے گا ،اور حق کی زندگی کے ساتھ کے زندہ کرے گا جب وہ تمہیں اٹھائے گا ۔
حضرت قتادہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے ۔

تفسیر درِ منثور جلد 1 صفحہ 120

تم بشکل نطفہ تھے باپ کی صلب میں ،  سو تم کو جاندار بنایا ، تم کو موت دیں گے ، پھر تم کوجلائیں گے  یعنی قیامت میں زندگی دیں گے پھر خدا کے پاس پیش کیئے جاؤ گے ۔

تفسیر کمالین ترجمہ و تشریح تفسیر جلالین جلد 1 صفحہ 66

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کفار جو کہیں گے آیت ( رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ) 40۔غافر:11) اے اللہ دو دفعہ تو نے ہمیں مارا اور دو دفعہ جلایا ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ۔ اس سے مراد یہی ہے جو اس آیت (وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ) 2۔ البقرۃ:28) میں ہے مطلب یہ ہے کہ تم اپنے باپوں کی پیٹھ میں مردہ تھے یعنی کچھ بھی نہ تھے۔ اس نے تمہیں زندہ کیا یعنی پیدا کیا پھر تمہیں مارے گا یعنی موت ایک روز ضرور آئے گی پھر تمہیں قبروں سے اٹھائے گا۔ پس ایک حالت مردہ پن کی دنیا میں آنے سے پہلے پھر دوسری دنیا میں مرنے اور قبروں کی طرف جانے کی پھر قیامت کے روز اٹھ کھڑے ہونے کی۔ دو زندگیاں اور دو موتیں۔

{ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ } بعد نصب الدلائل ووضوح البراهين ثم ذكر الدلائل فقال { وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا } نطفا في أصلاب آبائكم { فَأَحْيَاكُم } في الأرحام والدنيا { ثُمَّ يُمِيتُكُمْ } عند انقضاء آجالكم { ثُمَّ يُحْيِيكُمْ } للبعث { ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ } أي تردون في الآخرة فيجزيكم بأعمالكم.

۔۔۔ تم اپنے آباء کی پیٹھوں میں نطفہ تھے، رحم اور دنیا میں تمہیں زندگی دی، وقت پھر موت آئے گی ، اور بعث کے دن زندہ کیئے جاؤ گے اپنے اعمال کا بدلہ دئے جانے کے لیئے ۔

تفسیرِ بیضاوی ، معالم التنزیل

فقال ابن عباس وابن مسعود : أي كنتم أمواتا معدومين قبل أن تخلقوا فأحياكم - أي خلقكم - ثم يميتكم عند انقضاء آجالكم ، ثم يحييكم يوم القيامة

تفسیر القرطبی

عن ابن مسعود ، وعن ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم : " كيفَ تكفُرون بالله وكنتم أمواتًا فأحياكم ثم يميتكم ثم يحييكم " ، يقول : لم تكونوا شيئًا فخلقكم ، ثم يميتكم ، ثم يحييكم يومَ القيامة

حُدثت عن عمار بن الحسن ، قال : حدثنا عبد الله بن أبي جعفر ، عن أبيه ، عن الربيع ، قال : حدثني أبو العالية ، في قول الله : " كيفَ تكفرون بالله وكنتم أمواتًا " ، يقول : حين لم يكونوا شيئًا ، ثم أحياهم حين خلقهم ، ثم أماتهم ، ثم أحياهم يوم القيامة ، ثم رَجعوا إليه بعد الحياة.

عن قتادة ، قوله : " كيف تكفرون بالله وكنتم أمواتًا " الآية. قال : كانوا أمواتًا في أصلاب آبائهم (1) ، فأحياهم الله وخلقهم ، ثم أماتهم الموتة التي لا بد منها ، ثم أحياهم للبعث يوم القيامة ، فهما حياتان وموتتان (2) .

تفسیر  الطبری ، ابنِ جریر


" میں نے حتٰی الامکان کوشش کی ہے کہ بغیر کسی ضد و عنا دکے میں ان اشکالات و سوالات کے جواب پیش کروں اور نیت یہی تھی اللہ سب کو سمجھنے کی تو فیق عطاء فرمائے ۔۔  آپکی دعاؤں کا طلبگار ۔۔ تلمیذِ علامہ خضر حیات مدظلہ العالی ، ڈاکٹر محمد طاہر الحسنی

1 comment:

  1. ماشاء اللہ پیارے بھائی۔۔۔۔۔۔۔اب فریق مخالف کے جواب کا انتظار رہے گا ۔۔۔۔ جو کہ بھت مشکل ہے کہ آئے

    ReplyDelete