http://facebook.com/AllamaKhizarHayat

Wednesday, 30 October 2013

واہیاتی ٹولہ اور علمائے اسلام کی تحقیق کا مذاق !


میں اصل بات کی طرف آتا ہوں تمہید چھوڑئیے !
ان حضرت نے جس طرح "جسدِ مثالی " کے قائلین پر "کافرانہ توحیدی" قرار دیا ہے ان قائلین پر آپ حضرات بھی ایک نظر ڈال لیں تو معلوم ہوجائے گا کہ اکابرین کی نام کی روٹیاں توڑنے والے خود اکابرین کےے باغی ہیں ۔۔


علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ:

عالم برزخ میں روح کو دوسرا جسم ملتا ہے۔اللہ تعالی کی طرف سے شہدا کے اکرام کا اتمام ہے کہ جو بدن انہوں نے اللہ کی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے کرائے اللہ تعالٰی نے انکے بدلے انکو ان سے بہتر ابدان عطا فرمائے ھیں جو انکی روح کی سواری ہوں تاکہ وہ پوری طرح جنت کی نعمتوں کا لطف اٹھا سکیں ۔ جب قیامت کا دن ھوگا تو انکی روحیں انہیں (دنیا والے) بدنوں میں لوٹا دی جائیں گی۔اس دنیا والے جسم میں روح قیامت کے دن ھی آئے گی۔

کتاب بالروح صفحہ 169

عالم برزخ میں روحیں اپنے درجات کے اعتبار سے متفاوت ھیں اپنے مستقر اور مسکن کے لحاظ سے ان میں سے کچھ کی روحیں ایسی ھیں جو ملا اعلٰی علین میں رہتی ھیں اور یہ روحیں انبیاء علیہم السلام کی ھیں انکے درجات بھی متفرق ھیں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات انکو دیکھا۔

کتاب بالروح صفحہ 171

حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ :

"اسکا حقیقی بدن روح ہوائی ہے اور روح وائی کا تعلق عالم مثال کے دوسرے بدن سے کردیتے ھیں۔وضاحت ہے کہ دنیا والے بدن کے علاوہ روح کو دوسرا مثالی بدن ملتا ہے اسی کو عذاب و ثواب ہوتا ھے"

اثنا عشریہ صفحہ8 23

امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ علیہ:

روحیں بدن سے جدا ہونے کے بعد لذت و الم محسوس کرتی ھیں،یہاں تک کہ اللہ تعالٰی انکو بدنوں میں لوٹائے پھر وھاں لذت و الم ان بدنوں کو بھی حاصل ہوگا۔یہ ایسی حقیقت ہے انسانوں کا ایک جہاں اسکا قائل ہے۔اس میں صراحت ہے کہ روح دنیا والے بدن میں قیامت کے دن آئیگی اور لذت و الم روح کو ہی ہوتا ہے۔

تفسیر کبیر صفحہ 55، جلد 2

شیخ علاؤ الدین قونوی رحمۃ اللہ علیہ:

بڑے صوفیا عالم اجساد و ارواح کے درمیان ایک اور عالم ثابت کرتے ھیں جسے وہ عالم مثال کہتے ھیں جو عالم اجساد سے ذیادہ لطیف ہے اور عالم ارواح کی بنسبت کثیف ھے اور روحوں کا مختلف شکلوں میں ظاھر ھونا انکے نزدیک اسی عالم مثال کے وجود پر مبنی ہے۔

جذب القلوب صفحہ 209


امام ابوالمعین میمون حنفی رحمۃ اللہ علیہ:

انبیاء علیہم السلام کی روحیں اپنے دنیا والے جسموں سے نکل کر انہیں جسموں کے مثل مشک و کافور کیطرح معطر مثالی جسموں میں داخل ھوجاتی ھیں۔اور جنت میں رہتی ھیں،وھیں کھاتی پیتی ہیں اور عرش کے نیچے لٹکے ہوئے قندیلوں میں بسیرا کرتی ھیں۔

روح المعانی صفحہ 162، جلد 15،

تفیسیر مظہری صفحہ 224، جلد 3


امام نسفی رحمہ اللہ علیہ کا عقیدہ:
ارواح الانبیاء تخرج من جسدھا و تصیر مثل جسد ھا مثل الکافور و المسک و تکون فی الجنۃ تاکل و تشرب و تتنعم۔۔
انبیاء اکرام کی روحیں اپنے جسموں سے نکل کر ان ھی کے مماثل مشک و کافور کی طرح معطر مثالی جسموں میں داخل ھو جاتی ھیں اور جنت میں کھاتی پیتی ھیں اور لذت اندوز ھوتی ھیں۔

روح المعانی جلد 1 صفحہ 162

علامہ ابو طاھر قزوینی امام محمد بن محمد غزالی رحمہ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"وکان الغزالی رحمہ اللہ علیہ یقول من راءی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یر حقیقۃ شخسہ المودع فی روضۃ المدینۃ وانماراءی مثالہ لاشخصہ ۔۔۔"

امام غزالی نے فرمایا کہ جس شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اس نے مدینہ منورہ میں روضہ اقدس کے اندر رکھے ہوئے آپ کے بدن مبارک کو نہیں دیکھا بلکہ اس نے اس کی مثال کو دیکھا نہ کہ ذات اور شخص کو۔

الواقیت و الجواھر جلد 1 صفحہ 132

علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں امام الانبیاء نے ارشاد فرمایا :مثل لی الانبیاء علیھم السلام فضیلت بھم: یعنی انبیاء علیہھم السلام کو مثالی جسموں میں حاضر کیا گیا اور انہیں نماز پڑھائی۔

تفسیر بیضاوی جلد 1 صفحہ 473

علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے بھی اقرار کیا ہے:

ـ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج میں انبیاء اکرام علیہھم السلام کو دیکھنا تو صحیح بات یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی ارواح کو دیکھا جو مثالی اجسام میں متمثل تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(شرح الصدور۔100)

ـ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات موسٰی علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا اور پھر چھٹے آسمان پر بھی دیکھا تو وہاں پر روح بدن مثالی میں موجودتھی ۔۔۔۔۔۔۔ (شرح الصدور۔250)


 اب فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔ (محمد طاہر الحسنی)

فیس بک پر جوائین کریں ۔

No comments:

Post a Comment