اب ذرا دل تھام کر سنیں کے متواتر کے انکار
اور اجماعِ امت کے منکر کا فتوی کہاں کہاں جا کر لگتا ہے ۔ یہ گستاخ ٹولہ ضد اور
عناد میں اندھا دھند ایسی بکواس کرتا ہے کہ نہیں دیکھتا کہ اس کی زد میں کون کونسی
ہستیاں آرہی ہیں ۔۔
مولانا سرفراز صفدر صاحب نے لکھا ہے کہ (کلک کریں اور دیکھیں)۔۔۔
مولانا سرفراز صفدر صاحب نے لکھا ہے کہ (کلک کریں اور دیکھیں)۔۔۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابنِ عباس
رضی اللہ عنہ، اور امام ابوحنیفہ سماعِ موتی کا انکار کرتے ہیں ۔۔ تو چکڑالوی صاحب
کے نزدیک یہ ہستیاں متواتر کا اور اجماعِِ امت کا انکار کے اسلام کے دائرہ میں
رہتی ہیں یا ان کے زندیک خارج ہوجاتی ہیں ۔۔ اب فیصلہ ہم بھی نہیں کرتے انہی کے
ہاتھ میں فیصلہ دیتے ہیں کہ قاضی بھی آپ لوگ خود بن جاؤ اور فیصلہ فرمادو کہ
متواتر اور اجماع کا منکر کون ہوا ۔۔
اب ایک اور گستاخی ملاحظہ ہو!
یہاں جو "قیاسِ شخصی " کا مذاق
اڑایا گیا ہے کہ نص کے مقابلے میں قیاس کیا گیا تو ہم بتاتے ہیں کہ یہ
"قیاس" کہ مردے نہیں سنے کن ہستی نے کیا ہے ۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں :
۔۔۔کہ عبداللہ بن عمرؓ بھول گئے اور وہ امام الانبیاء صلی علیہ وسلم کے الفاظ یاد نہیں رکھ سکے؟ آپ صلی علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا تھا بے شک وہ مشرکین اگلے جہان میں پہنچ کر اس حقیقت کو جان گئے جو کچھ میں ان سے کہتا تھا وہ حق تھا۔۔پھر ام المئومینین نے قرآن کی دو آیتیں فرمائیں کہ میرے پیغمبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبور میں مدفون لوگوں کو نہیں سنا سکتے (وما انت بسمع من فی القبور)، میرے پیغمبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو نہیں سنا سکتے (انک لا تسمع الموتٰی)
۔۔۔کہ عبداللہ بن عمرؓ بھول گئے اور وہ امام الانبیاء صلی علیہ وسلم کے الفاظ یاد نہیں رکھ سکے؟ آپ صلی علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا تھا بے شک وہ مشرکین اگلے جہان میں پہنچ کر اس حقیقت کو جان گئے جو کچھ میں ان سے کہتا تھا وہ حق تھا۔۔پھر ام المئومینین نے قرآن کی دو آیتیں فرمائیں کہ میرے پیغمبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبور میں مدفون لوگوں کو نہیں سنا سکتے (وما انت بسمع من فی القبور)، میرے پیغمبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو نہیں سنا سکتے (انک لا تسمع الموتٰی)
مسلم شریف جلد ۲ صفحہ ۳۰۳
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1179
عثمان بن ابی شیبہ عبدہ
سن سلیمان ہشام حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول خدا بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا
تم نے اپنے رب کا وعدہ سچا پایا؟ پھر فرمایا اے مشرکو! تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ
کیا تھا بے شک تم نے وہ پالیا پھر فرمایا یہ لوگ اس وقت میرا کہنا سن رہے ہیں ابن عمر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے بیان کی
گئی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول خدا نے اس طرح فرمایا تھا کہ اب معلوم ہوگیا جو میں
ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا پھر انہوں نے سورت نمل کی یه آیت پڑھی (اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ
الْمَوْتٰى وَلَاتُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَا ءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ) 27۔ النمل
: 88) آخر تک یعنی اے پیغمبر صلی الله علیه وسلم آپ مردوں کونهیں سنا سکتے ۔
تو معلوم ہو گیا ہوگا کہ یہ "قیاس" کن ہستی نے کیا تھا! کہ اس آیت سے مراد یہی ہے کہ مردے نہٰن سنتے ۔۔ اور ابلیس رجیم بن جانے کا تیر کس جگہ لگ رہا ہے ؟
دعاؤں میں یاد رکھئیے گا ۔۔ آپکا بھائی محمد طاہر الحسنی ۔۔۔
فیس بک پر جوائین کریں ۔
فیس بک پر جوائین کریں ۔

No comments:
Post a Comment