الیاس گھمن کا آخر کار نادانستہ طور پر اقرارِ حق
الیاس گھمن نے اس زمینی قبر کی
تعریف کی ہے کچھ حولاجات کے ساتھ آپ سکین میں دیکھ سکتے ہیں جس
کا ماحصل یہ کہ "قبر "
نام ہے "میت کے رہنے کی جگہ " ۔
اتنے سالوں سے جھگڑا کرتے آرہے یہ
لوگ کہ "قبر میں زندہ ، قبر میں زندہ ، قبر میں زندہ" ۔۔ آخر کار پھنس
ہی
گئے
مصادقِ "اپنے ہی دام میں صیاد آگیا " ۔۔
ان لوگوں نے شور مچایا کہ "قبر
میں زندہ ، قبر میں زندہ ، قبر میں زندہ"
اب ذرا انہی کی زبان سے قبر کی تعریف سن
لیں کہ ۔۔ قبر – "مقر المیت"
۔۔ اب جب خود مان لیا کہ قبر میت کے رہنے
کی جگہ ہے تو میت کی رہنے کی جگہ میں
زندہ کیوں مان رہے ہو ؟؟
ہم تو شروع ہی سے کہتے آئے کہ
قبر میر کے رہنے کی جگہ ہے یہاں پر میت
ہوتی ہے نہ کہ زندہ ۔
جیسے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے :
سورۃ مراسلات آیت 25،26
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا 25ۙاَحْيَاۗءً وَّاَمْوَاتًا 26ۙ
کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہیں بنایا۔زندوں
اور مردوں کو۔
یعنی زندہ مخلوق اسی زمین میں بسر کرتی ہے اور مردے
بھی اس مٹی میں پہنچ جاتے ہیں۔ انسان کو زندگی بھی اس خاک سے ملی
اور موت کے
بعد بھی یہی اس کا ٹھکانا ہوا۔ تو دوبارہ اسی خاک سے اس کو اٹھا دینا کیوں مشکل
ہوگا۔
تفسیرِ عثمانی
ہم نے زمین کو سمیٹنے والی بنایا ۔زندے اسکی پیٹھ
پر اور مردے اسکے اندر (باطن میں )
تفسیرِ جلالین
اور انبیاء علیھم السلام اس قبر
میں نہیں بلکہ اعلٰی علیین میں زندہ ہیں ، یہ تو ہے ہی میت کی جگہ ۔ اب جو میت کے
رہنے والی جگہ پر انبیاء کو اسی
دنیوی زندگی کے ساتھ زندہ مانے اسکے کے بارے مین کیا کہیں گے آپ لوگ؟؟ کیا
ایسے ہوتے ہیں "متکلم الاسلام
" ؟؟؟
اب آپ لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ حق
پر کون ہے ، ان لوگوں نے بھی نادانستہ طور پر حق کو مان ہی لیا ہے ۔اب
اگر اس بات یہ لوگ قائم رہ جائیں
تو پھر تو جھگڑا ہی ختم ہے ، مگر جن لوگوں کا کام ہی فتنہ پھیلانا ہو وہ کہاں ایسی
باتوں پر قائم رہ سکتے ہیں ۔ مگر پھر
بھی اللہ سے دعا ہے اللہ سب کو ہدایت قبول
کرنے کی توفیق عطاء فرما ئے۔

No comments:
Post a Comment