آیت نمبر 1 اور 2 کا جواب :
اللہ تعالٰی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ
قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ
يُرْزَقُوْنَ
جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ
سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں ۔
سورۃ آل عمران 169
وَلَا
تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ
وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ
انہیں مردہ نہ کہو جو اللہ کی راہ میں شہید ہوجائیں بلکہ وہ زندہ ہیں اور تمہیں اسکا شعور نہیں ۔
سورہ البقرۃ 154
اب یہ حیات کیسی ہے ، اور کہاں ہے اسکا جواب سلسلہ وار ۔۔
قرآن ۔ حدیث ۔۔ صحابہ ۔۔ تابعین
1- حیات الشھداء کی
تفسیر قرآن سے ۔
سورۃ یٰسین میں حبیب نجار کا واقع ذکر ہوا ہے کہ اس کی قوم
نے حق بولنے پر بے دردی سے شہید کر دیا
قِيلَ ادْخُلِ
الْجَنَّةَ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ
کہا گیا جنت میں داخل ہو
جا اس نے کہا اے کاش! میری قوم بھی جان لیتی
سورہ یسین 26
جو بھی تفسیر آپ اٹھائیں گے یہی تفسیر ملی گی آپکو کہ اس کو
جنت میں داخل کر دیا جبکہ اسکے کو بے دردی
سا روندا ، جلایا گیا ۔ تو اب قرآن سے قرآں
سے قرآں کی تفسیر ثابت ہوگئی کہ شہید جنت میں زندہ ہے ۔ اب
اگر اسکے کلاف کوئی تفسیر ہوگی وہ مردود ہوگی ۔ کیونکہ تفسیر کا پہلا درجہ ہی قرآں
ہے۔
2-
حیات الشھداء کی تفسیر حدیث سے ۔
جب حیات الشھداء کی آیت نازل ہوئی تو اسکا مطلب و تفسیر خود
صحابہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھی تو نبی کریم ﷺ سے جو تفسیر کی صحابہ کے سامنے وہ پڑھ
لیں ۔۔ کہ کتنا واضح بیان ہو رہا ہے کہ شہید جنت میں ہی زندہ ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو
بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا
إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا
عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ
وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا
الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا
عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي
سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ قَالَ
أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ
خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ
شَائَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ
اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ نَشْتَهِي
وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِهِمْ ثَلَاثَ
مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَکُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا
قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّی
نُقْتَلَ فِي سَبِيلِکَ مَرَّةً أُخْرَی فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَيْسَ لَهُمْ
حَاجَةٌ تُرِکُوا
یحیی بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی معاویہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ، محمد بن عبداللہ بن نمیر
حضرت مسروق سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عبداللہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جنہیں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا
ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی روحیں سر سبز پرندوں کے جوف میں ہوتی ہیں ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرض کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ
روحیں جنت میں پھرتی رہتی ہیں جہاں چاہیں پھر انہیں قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں ان کا رب ان کی طرف مطلع ہو کر فرماتا ہے کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے وہ عرض کرتے ہیں ہم کس چیز کی خواہش کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں
جنت میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر
نہیں چھوڑا جائے گا تو وہ عرض کرتے ہیں اے رب ہم چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری روحیں ہمارے
جسموں میں لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم تیرے راستہ میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں جب اللہ دیکھتا ہے کہ انہیں اب
کوئی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 388
اب کیا اس سے بھی کوئی واضح دلیل ہو گی ؟ کای اس سے بھی
کوئی واضح تفسیر ہو گی ؟؟ کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم نے بتلا دیا کہ شہید جنت میں
زندہ ہیں ۔ اور ان کی روحوں کو انکے
جسموں میں نہیں لوٹایا گیا ۔۔ اس پر تو
بے شمار احادیث موجود ہیں اگر شامل کرنا شروع کیا بہت لمبا مضمون
ہو جائے گا اس
لیئے مختصر بات کر رہا ہوں ۔۔ حق قبول کرنے کے لیئے یہ بھی کافی ہے
3- حیات الشھداء کی تفسیر صحابہ سے
3- حیات الشھداء کی تفسیر صحابہ سے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا
يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ قَالَ
کُنَّا بِصِفِّينَ فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ
اتَّهِمُوا أَنْفُسَکُمْ فَإِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَی قِتَالًا لَقَاتَلْنَا
فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا عَلَی
الْحَقِّ وَهُمْ عَلَی الْبَاطِلِ فَقَالَ بَلَی فَقَالَ
أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَی
عبداللہ یحیی یزید حبیب بن ابوثابت ابووائل سے روایت کرتے
ہیں کہ ہم لوگ جنگ صفین میں شریک و موجود تھے کہ سہل بن حنیف
نے کھڑے ہو کر کہا
لوگو! تم اپنی رائے کا قصور سمجھو ہم لوگ تو جنگ حدیبیہ میں رسالت مآب صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے
اگر جنگ کی ضرورت دیکھتے تو ضرور لڑتے جہاں فاروق
اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرور عالم سے کہا تھا یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر اور
یہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ارشاد ہوا ہاں! اس کے بعد انہوں نے کہا کیا ہمارے مقتول
جنت میں اور ان کے مرے ہوئے لوگ دوزخ میں
نہیں ہیں ارشاد ہوا کہ ہاں!
صحیح بخاری:جلد
دوم:حدیث نمبر 442 , بخاری شریف صفحہ
۳۹۵ جلد ۱
تفسیر
ابن
کثیر
ج
۱ ص ۶۴۲.
صحابہ کا عقیدہ بھی واضح ہو گیا ۔کہ انہوں نے بھی شہداء کو
جنت میں زندہ مانا ۔
4۔ حیات الشھداء
کی تفسیر تابعین اور علمائے اہلسنت سے ۔
اگر ایک ایک کر یوں تفسیر کی جائے تو صفحات کے صفحات بھر
جائیں ۔ ہم صرف کچھ حوالے نقل کیئے دیتے ہیں جنہوں نے اسی بات اور
اسی تفسیر کو
معتبر سمجھا جو قرآن ، حدیث و صحابہ سے ثابت ہے کہ شہید جنت میں زند ہیں ۔
حضرت قتادہ تابعی رحمہ اللہ علیہ – تفسیر ابن جریرجلد 4 صفحہ 176
حضرت قتادہ تابعی رحمہ اللہ علیہ – تفسیر ابن جریرجلد 4 صفحہ 176
حضرت امام مجاہد تابعی رحمہ اللہ علیہ – بحوالہ تفسیر
الدر المنثور صفحہ 96 جلد 2
حضرت امام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ – بحوالہ شرح
الصدور صفحہ 96
امام علی بن احمد الواحدی رحمۃ اللہ علیہ – بحوالہ تفسیر
ابو سعود جلد 4 صفحہ 429
امام حسین بن عبداللہ بن محمد طیبی شافعی رحمہ اللہ علیہ – بحوالہ تفسیر
قاسمی جلد 2 صفحہ 323
حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ – تفسیر عزیزی از
سورۃ ال عمران
امام محمد بن احمد الانصاری القرطبی رحمۃ اللہ علیہ – تفسیر قرطبی
جلد 2 صفحہ 629
امام عبداللہ بن احمد بن محمود حنفی رحمہ اللہ علیہ – تفسیر مدارک
تحت آیت مذکورہ
امام راغب اصفہانی رحمۃ علیہ – مفردات القران
جلد 1 صفحہ 278
امام خارزن رحمہ اللہ علیہ – تفسیر خارزن
تحت آیت مذکورہ
اتنے دلائل و براہین کے سامنے کوئی اپنے باطل عقیدے کو ثابت
کرنے کے لیئے ان آیات سے استدلال کرے کہ روح لٹا دی جاتی ہے قبر میں ۔۔ قبر میں
زندگی مل جاتی ہے ۔۔ شہید ، انبیاء ، قبروں میں زندہ ہوتے ہیں ۔۔ آپ کے خیال میں
کیا وہ عقلمند ہو گا ؟؟ جو قرآں و سنت ، صحابہ و تابعین سے ٹکر لے ۔؟؟ ان آیات سے
اپنے باطل عقیدے کو ثابت کرنے والے برائے مہربانی کچھ سوچیں اور ہدایت و حق قبول
کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

No comments:
Post a Comment