http://facebook.com/AllamaKhizarHayat

Friday, 6 June 2014

الیاس گھمن کی کتاب کا آپریشن: تیسری اور چوتھی آیت کا جواب۔





تیسری  اور چوتھی دلیل کا جواب :


-  آپ نے آیات کو بغور پڑھا لیا ؟  کہیں سے لگ رہا ہے کہ یہ آیات سن کے مذہب پر دلالت کر رہی ہیں ۔ 

د عوہ دیکھو اور دلیل دیکھو ۔ ! یہ کس مذہب پر دلیل دے رہے ہیں یہ گھمن ، ماسٹر اور ڈاکٹر ؟؟  ذرا اپنی یاداشت میں

 دیکھئے   کہ کوئی اس سے متعلق دعوہ کیا ہے کوئی ؟ کوئی دور دور تک تعلق نظر آرہا ہے ان لوگوں کے عقیدے اور   اس دلیل کے مابین ؟؟
انہوں یہ یہ آیت پڑھی اور بول دیا کہ چلو جی ثابت ہو گیا روحین لوٹ اتی ہیں ۔ قبر میں مردے زندہ کیے جا تے ہیں ، ۔! 

سبحان اللہ یہ ہوئی نا بات۔

یہ تو ڈینگیں مارنے والی بات ہو گئی کہ جی ہمارے پاس قرآن سے دلائل ہیں ۔ بس لوگوں کو دھوکا دئے جا رہے ہیں سٹیجوں پر 

کھڑا ہو کر ۔ اس دلیل کو دیکھیں اور بتائیں کس لفظ کا معنی ہےقبر میں زندہ کر دیا جانا ؟؟؟  کس کا معنی ہے روح لوٹ کر آگئی یا 

تعلقِ تصرف قائم ہو گیا ارواح کا اجساد سے؟؟

اب جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ۔۔ الیاس گھمن صاحب نے جتنی بھی تفاسیر پیش کی ہیں سب کی سب میں یہ لکھا ہے یہ یہاں 

واقعہ معراج مراد ہے ۔  خود پڑھ سکتے ہیں آپ۔





اب ذرا کوئی اس غالی گرو ہ سے پوچھے کہ ہم سے کون واقعہ معراج کا منکر ہے ؟؟   صرف دجل، کذب 

،فریب دہی ہے ان لوگوں کے پاس قرآں و سنت تو دور دور تک نہیں ان کے پاس۔

میرا چیلنج ہے کہ کوئی ایک تفسیر نکال کر دکھاؤ جہاں سے تم لوگوں کا عقیدہ ثابت ہو رہا ہو۔ !

میں  تو دعوے سے کہتا ہوں کہ  واقعہ معراج ان لوگوں کے عقیدے کی موت ہے ۔ اب ذرا  واقعہ معراج کے بارے میں علماء کیا 

کہتے ہیں ذرا ملاحظہ کریں ۔ انشاء اللہ سب عقدے حل ہو جائیں گے ۔

حکیم الامت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ھیں:

"
حدیث کی دلالت اس پر ظاھر ھے کہ موسٰی علیہ السلام اور یونس علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آئے۔ یہ تمثلِ روحی تھا۔کیونکہ انکا جسد تو قبور میں تھا۔

التکشف صفحہ 450


"موسٰی علیہ السلام سمیت تمام انبیاء اکرام کے مثالی جسم موجود تھے (معراج کے وقت) اور ان کے حقیقی جسم ان قبروں میں مدفون رہے"

فتح الملہم جلد 1 صفحہ 330

صاحب بیضاوی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر بیضاوی جلد 3 صفحہ 112 میں،

علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے روح المعانی جلد 15 صفحہ 327 میں،

علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الصدور صفحہ 100 میں،

قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ علیہ نے تفسیر مظہری جلد 2، صفحہ 399 میں،

یہی تحریر فرمایا کہ سفر معراج میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء اکرام کی ارواح کو دیکھا جو مثالی اجسام میں متمثل تھیں۔۔۔۔۔۔۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا:
آپ صلی اللہ علہ وسلم کا یہ دیکھنا (معراج میں) انبیاء اکرام کی ارواح مبارکہ کا تھا نہ کہ انکے اجسادِ عنصریہ کا کیونکہ ان کے اجساد 

عنصریہ تو یقیناً زمین میں تھے جو قیامت کے دن ہی زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے 

پہلے اپنہ قبر مبارک سے نکلیں گے اور قبر مبارک سے پہلے کسی کی قبر شق نہیں ہو گی۔
کتاب الروح صفحہ 64

علامہ بیضاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وضاحت فرمادی ہے کہ میرے لئے انبیاء اکرام کو مثالی اجساد دیئے گئے ، پس میں نے انہیں نماز پڑھائی۔

تفسیر بیضاوی جلد 2 صفحہ 208

ایک اورجگہ تفسیر بیضاوی میں فرماتے ہیں : "ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بڑی نشانیوں سے کچھ دکھلائیں مثلاً رات کے 

تھوڑے سے حصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ماہ کا سفر کرجانا، بیت المقدس کا ملاحضہ فرمانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی

 خاطر ارواح انبیاء اکرام کا متمثل ہو کر لایا جانا۔

علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ علیہ:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں ملائکہ کے ساتھ نماز پڑھی اور انبیاء اکرام کے ارواح مبارکہ بھی بیت 

المقدس میں جمع کیے گئے۔۔
اور فرمایا
حضرت ابو الوفاء بن عقیل یقین سے فرماتے ہیں کہ انبیاء اکرام کے ارواح طیبہ مطہرہ بیت المقدس میں اپنی اپنی شکل کے مثالی اجساد میں حاضر ہوئے۔


فتح الباری جلد 7 صفحہ 158

علامہ جلال الدین سیوطی نے فرمایا:

صحیح بات صرف یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارواح انبیاء کی ان کے مثالی جسموں میں زیارت کی۔
شرح الصدور صفحہ 229

شیخ الحدیث علامہ ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ علیہ :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات انبیاء اکرام کے مثالی ، برزخی اجسام ہی میں دیکھا اور ملاقات فرمائی۔

(التعلیق الصبیح جلد 2 صفحہ 229)


اب کوئی گستاخ اوکاڑوی کا بچہ کوئی جرات کرے گا اس آیت سے استدلال کرنے کی اپنے عقیدے پر ؟ اس آیت نے تو ان کے

  عقیدے کو جڑ ہی سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے ۔   بس لوگوں کو بے وقوف بنانا بہت آسان ہے ان لوگوں کے ہاں ۔ ذرا ہمارے 

سامنے بھی تو آکر بات کریں یہ لوگ۔ بتا چل جائے گا کہ کتنے آنوں کا ایک روپیہ ہوتا ہے ۔

دعاؤں میں یاد رکھئیے گا اس خادم کو ۔ (محمد طاہر الحسنی) 

ضرور لائک کریں  ۔۔


No comments:

Post a Comment