http://facebook.com/AllamaKhizarHayat

Friday, 6 June 2014

الیاس گھمن کی کتاب کا آپریشن: پانچویں آیت کا جواب

پانچویں دلیل کا جواب :




پانچویں دلیل کا جواب :.



پچھلی آیات کے بارے میں تو اپ پڑھ چکے ہوں گے کیسے اس غالی گروہ نے کیسے عوام کو بے وقوف بنایا ہوا ہے ۔بس نام لیتے ہیں قرآن و سنت 

کا ورنہ ان کے پلے نہ تو قرآن ہے نہ سنت ۔ اب اس آیت کو بھی سمجھیں اور بتائیں کہ کیا اس آیت کا ان عقیدے روح لوٹ آنا ، روح کا تعلقِ 

تصرف قائم ہو جانا اس سے کوئی دور دور تعلق ہے یا نہیں ۔

اس آیت کا شانِ نزول ہم دیکھیں تو بات پہلے ہی درجے میں صاف ہو جاتی ہے کہ ان اس آیت سے استدلال کرنا سرے سے ہی باطل ہے ۔ 

اسکے شانِ نزول کے بارے میں آتا ہے ۔

یہ آیت حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے بارے میں نازل ہوئی ۔ یعنی حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ان دونوں کی آوازیں حضور 

صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہوگئیں جبکہ بنو تمیم کا وفد حاضر ہوا تھا ایک تو اقرع بن حابس کو کہتے تھے جو بنی مجاشع میں تھے اور دوسرے 

شخص کی بابت کہتے تھے ۔ اس پر حضرت صدیق نے فرمایا کہ تم تو میرے خلاف ہی کیا کرتے ہو فاروق اعظم نے جواب دیا نہیں نہیں آپ یہ 

خیال بھی نہ فرمائیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن زبیر فرماتے ہیں اس کے بعد تو حضرت عمر اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے 

نرم کلامی کرتے تھے کہ آپ کو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا ۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر فرماتے تھے قعقاع بن معبد کو اس وفد کا امیر بنائیے 

اور حضرت عمر فرماتے تھے نہیں بلکہ حضرت اقرع بن حابس کو اس اختلاف میں آوازیں کچھ بلند ہوگئیں تو یہ آیات نازل ہوئیں

(تفسیر ابنِ کثیر)

یہاں سے صحابی کی تفسیر بھی ثابت ہو گئی ۔

یہ آیات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے  جھگڑتے کے بارے میں نازل ہوئیں ۔

(تفسیر جلالین)


اب یہ غالی اتحادی گروہ یہ اس آیت سے یوں استدلال کر رہا ہے کہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج بھی اسی طرح زندہ ہیں قبر میں تو قبر 

کے سامنے آواز اونچی نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنتے ہیں ۔

اب کوئی ان سے پوچھے کہ مسجدِ نبوی میں جو پانچ وقت کی اذان ہوتی ہے کیا وہ اتنی آہستہ ہوتی ہے ؟ کیا اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ آواز 

اونچی نہ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو آواز بلند نہ ہو ؟؟
 
لاؤڈ سپیکر پر اذان ، تلاوت ، تراویح کیا سب پھر اس آیت کے خلاف نہیں ہوجاتا ؟؟

ان آیات کے بعد تو صحابہ نے سرگوشیوں میں گفتگو شروع کر دی تھی ۔

اور آپ جتنی بھی تفاسیر اٹھائیں گے سب کے سب یہی کہیں گے کہ یہ آیات صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔اور ان 

آیات کے بعد صحابہ ایسے گفتگو کرتے تھے جیسے سرگوشی کر رہے ہوں ۔  یہ تفسیر صحابہ اور تابعین،تبع تابعین سے ثابت ہے ۔

جیسے ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ (تفسیر مدارک جلد 3 صفحہ 252،253)۔
 
،حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ، حضرت قتادہ رحمہ اللہ علیہ ،حضرت ابن ملیکہ رحمہ اللہ علیہ ، حضرت امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ ، (تفسیر درمنثور)

یہاں پر جو الیاس گھمن نے قرآن سے دلائل دئے اپنے باطل عقیدے پر ان سب کا جواب مکمل ہوچکا ہے ۔ امید ہے آپ لوگ جان گئے ہو 


گیں کہ ان کے اپنے باطل عقیدے پر قرآن سے ایک بھی دلیل نہیں ہے ۔ ابھی جب احادیث کا جواب دیا جائے تب بھی آپ جان لیں گے 

جیسے ان کے پاس قرآں نہیں ویسے ان کے پاس حدیث نہیں ۔ 

ان لوگوں کا دجل، جھوٹ اور فراڈ دیکھیں کہ ان کے پاس قرآن و سنت سے کوئی دلیل نہیں اور یہ اہلِ حق کو اہلِ سنت والجماعت سے خارج 

کر رہے ہیں ۔ ان آیات کی بناء پر جن سے ان کا عقیدہ ثابت ہوتا ہی نہیں  جبکہ اُلٹا ہمارا مؤقف ثابت ہوتا ہے ۔ 

انشاء اللہ جلد ہی حاضر ہوں گا ۔ دوسرے دلائل کے رد کے ساتھ ۔ دعاؤں میں یاد رکھیں ۔ محمد طاہر الحسنی

فیس بک کا پیج ضرور لائیک کریں مزید اچھی پوسٹوں کے لیئے ۔ 




 
 

No comments:

Post a Comment